بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے آج صبح (پیر 28 ستمبر کو) شہداء، جانبازوں (جنگ میں معذور ہونے والے افراد) نیز ایثارگروں (غازیوں) کے خاندانوں کی تعظیم کی تقریب میں، شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے کیا اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا: مجھے فخر ہے کہ آج اس باوقار تقریب میں شہداء، جانبازوں اور ایثارگروں کے معزز خاندانوں کی خدمت میں حاضر ہوں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف، ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا:
تیسری قسط:
آبادان کا محاصرہ توڑنے پر مبنی امام (رضوان اللہ علیہ) کے حکم کی تعمیل کیسے ممکن ہوئی؟
ان دنوں آبادان کا محاصرے ٹوٹنے کی سالگرہ بھی ہے۔ 27 ستمبر 1981 کو آبادان کا محاصرہ ٹوٹا۔ دشمن نے 1980 میں اپنا حملہ شروع کیا اور خرمشہر کا کچھ حصہ قبضے میں لے لیا، لیکن آبادان قبضہ نہ کر سکا اور آبادان محاصرے میں آ گیا۔
امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے ایک مختصر لیکن فیصلہ کن جملے میں فرمایا "آبادان کا محاصرہ توڑا جانا چاہئے"۔ اس حکم کی تعمیل کرنے کے لئے وسیع منصوبہ بندی اور کوشش کی گئی اور آخر کار 27 ستمبر 1981 کو "فاتح 77 خراسان ڈویژن کی قیادت میں آبادان کا محاصرہ توڑا گیا۔
ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آبادان کا محاصرہ توڑنے کی کارروائی میں شریک مجاہدوں پر کونسی اقدار حاوی تھیں اور انہوں نے دشمن کو کیسے شکست دی اور اس کی خواہشات کو بکھیر دیا تاکہ وہ دوبارہ یہ نہ سوچے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں ایسے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
آبادان کا محاصرہ توڑنے کی کاروائی میں شریک شہیدوں اور کمانڈروں کی یاد
کل 29 ستمبر ہے۔ یہ دن شہید فلاحی، نامجو، کلاہدوز، فکوری اور جہان آرا جیسے کمانڈروں کی شہادت کا دن ہے۔ یہ کمانڈر آبادان کا محاصرہ توڑنے کے لئے ہونے والی کارروائی کی کامیابی کے بعد ہوائی جہاز سے تہران جا رہے تھے کہ شہید ہو گئے۔
آٹھ سالہ دفاعِ مقدس سے 12 روزہ مسلط جنگ، رمضان کی مسلط جنگ اور ہرمز کی لڑائی تک
ہم نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس مکمل کیا اور اس کے بعد ہمارے لئے دوسرا دفاعِ مقدس رقم ہؤا جو 13 جون 2025 کو شروع ہؤا اور 12 دن تک جاری رہا اور اس جنگ میں بھی ہم سربلند رہے۔
اس کے بعد، ہمارا "رمضان کا دفاعِ مقدس" تھا جو 28 فروری 2026 کو شروع ہؤا اور 9 اپریل 2026 تک جاری رہا اور اس کے بعد ہم نے "ہرمز کی لڑائی" بھی مکمل کی۔
تمام جنگوں میں دشمن کا ہدف ایک ہی تھا / تمام جنگیں پراکسی جنگیں تھیں
ان جنگوں میں مماثلتیں:
اگر ہم ان لڑائیوں کو دیکھیں، تو ان میں مشترک پہلو نظر آتے ہیں:
1۔ ان تمام جنگوں میں دشمن کا ہدف ایک جیسا تھا۔ دفاعِ مقدس کے دور میں ہدف انقلاب کو شکست دینا اور ملک کی سرحدوں کو نقصان پہنچانا تھا اور آج بھی ایران کو توڑنے اور سرحدوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رمضان کی جنگ میں بھی ہدف یہی تھا۔
2۔ تینوں جنگیں نیابتی (پراکسی) تھیں؛ یعنی عالمی استکبار کا ہاتھ صدام اور صہیونی رژیم کی آستین سے ایران کے خلاف باہر آیا۔ 12 روزہ جنگ میں صہیونی رژیم امریکہ کے پراکسی کے طور پر میدان میں آئی اور چالیس روزہ جنگ اور اس کے بعد کی جنگوں میں، امریکہ اسرائیل کا پراکسی ہے۔
3۔ ان تمام جنگوں میں مختلف ممالک نے ہمارے دشمن کی مدد کی۔
4۔ ان میں سے کسی بھی جنگ میں ہمارے دشمن مطلوبہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ انقلاب کے آغاز سے اب تک، عالمی استکبار کی کوشش انقلاب کو شکست دینے، ملک میں ٹوٹ پھوٹ پیدا کرنے اور ایران کی سرحدوں کو نقصان پہنچانے پر مرکوز رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ